تحریر: سید انجم رضا
حوزہ نیوز ایجنسی|
تشییعِ جنازہ؛ عقیدت اور عوامی وابستگی کا اظہار
رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تشییعِ جنازہ ایک عظیم قومی اور عوامی اجتماع کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ اس اجتماع میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد، ان کے جذبات اور ان کی وابستگی اس امر کی عکاسی کرے گی کہ کسی شخصیت کے اثرات صرف اس کی زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے افکار، خدمات اور جدوجہد بھی معاشروں میں اپنا اثر قائم رکھتے ہیں۔
دنیا کے مختلف خطوں سے لوگ اسلامی جمہوریہ ایران پہنچ کر نمازِ جنازہ میں شرکت اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ملتِ اسلامیہ کے مختلف طبقات کی یہ شرکت عقیدت، احترام اور ایک فکری وابستگی کے اظہار کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
یہ اجتماع اس بات کا بھی مظہر ہوگا کہ عوام اپنے رہنماؤں کو صرف اقتدار کے زاویے سے نہیں بلکہ ان کے نظریات، خدمات اور اقدار کی بنیاد پر بھی پرکھتے ہیں۔
زمانۂ حال میں عالمِ اسلام کی سیاسی، مذہبی اور انقلابی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شخصیت ایک منفرد مقام کی حامل نظر آتی ہے۔ ایک طویل عرصے تک اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کرنے والے رہبر شہید نے نہ صرف ایک سیاسی نظام کی رہنمائی کی بلکہ ایک ایسے فکری مکتب کی نمائندگی کی جو اسلامی اقدار، خودمختاری، مزاحمت اور قرآنی اصولوں کو اپنی بنیاد قرار دیتا ہے۔
ان کی شہادت کو ان کے حامی حلقوں کی جانب سے موجودہ صدی کی بڑی شہادتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک عظیم سیاسی و مذہبی شخصیت کے فقدان کا سانحہ نہیں بلکہ ایک ایسے فکری سفر کا اہم مرحلہ بھی ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
اسلامی نظام اور قیادت کا تصور
رہبرِ شہید کی سیاسی زندگی کا بنیادی محور اسلامی نظام اور ولایت پر مبنی حکمرانی کا تصور تھا۔ ان کا یقین تھا کہ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے۔
امام خمینیؒ نے جس اسلامی نظام کی بنیاد رکھی، رہبرِ شہید نے اسی نظام کو جاری رکھنے اور عالمی سطح پر اس کے نظریاتی دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے نزدیک اسلامی نظام کا مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا تھا جو قرآن، سیرتِ رسول اکرم ﷺ اور تعلیماتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں تشکیل پائے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے دستور میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ نظام انبیائے الٰہی کی جدوجہد کے تسلسل کے طور پر قائم کیا گیا ہے اور اس کی بنیاد قرآن و اسلامی تعلیمات پر ہے۔
مادی نظاموں کے مقابلے میں ایک متبادل تصور
جدید دنیا میں طویل عرصے تک لبرل ازم اور مغربی سیاسی ماڈلز کو ترقی اور کامیابی کی واحد علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، لیکن مختلف معاشروں میں ان نظاموں کے بارے میں سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔
رہبرِ شہید کی ایک نمایاں فکری خدمت یہ تھی کہ انہوں نے اسلامی نظام کو ایک متبادل تہذیبی و سیاسی تصور کے طور پر پیش کیا۔ ان کے نزدیک انسان کی حقیقی ترقی صرف مادی وسائل میں اضافے کا نام نہیں بلکہ اخلاق، روحانیت، عدل اور انسانی وقار کے تحفظ سے بھی وابستہ ہے۔
ایک اسلامی نظام کے استحکام کے لیے قیادت کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور اس تصور کے مطابق کسی رہبر کا اپنی فکر اور اصولوں کے لیے قربانی پیش کرنا اس نظریے کے پیروکاروں کے نزدیک اس نظام کی معنوی قوت اور وابستگی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
مزاحمت کا فلسفہ اور عالمی سیاست
اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں مزاحمت کا تصور ایک بنیادی عنصر رہا ہے۔ اس فلسفے کی بنیاد قرآن کے تصورِ توحید اور طاغوت سے اجتناب پر رکھی جاتی ہے:"وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ"
اسی فکری بنیاد کے تحت ایران نے فلسطین، لبنان، عراق اور دیگر خطوں میں اپنے سیاسی مؤقف کو مزاحمت کے نظریے سے جوڑا ہے۔
رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اسی مزاحمتی فکر کو جاری رکھا اور اسے اسلامی انقلاب کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا۔ ان کے نزدیک جنگ، امن، مذاکرات اور سفارت کاری سب کا فیصلہ اسلامی نظام کے بنیادی اصولوں اور قومی مفادات کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
عالمی حمایت اور اسلامی نظام کی مقبولیت
رہبرِ شہید کے جنازے میں عوامی شرکت کو ان کے حامی حلقے اسلامی نظام کے ساتھ عوامی وابستگی کے اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اجتماع اس بات کی علامت ہوگا کہ اسلامی اقدار پر قائم رہنے والے رہنما عوام کے دلوں میں جگہ بنا سکتے ہیں۔
دنیا بھر سے عوامی شرکت کو ایران مخالف پروپیگنڈے، اسلامو فوبیا اور ایرانوفوبیا کے مقابل ایک مختلف تصویر کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ اجتماع امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ فکری وابستگی کے اظہار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
پاکستان اور دیگر ممالک سے عوامی شرکت کی خواہش
پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے بہت سے افراد رہبرِ شہید کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم سفری مشکلات، مالی مسائل اور انتظامی رکاوٹیں بعض افراد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
اگر زمینی راستوں اور سفری سہولیات میں آسانی پیدا کی جائے تو پاکستان اور دیگر ممالک سے عوامی شرکت ایک تاریخی منظر پیش کر سکتی ہے۔
شخصیات نہیں، افکار زندہ رہتے ہیں
تاریخ کا اصول ہے کہ عظیم شخصیات اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے زندہ رہتی ہیں۔ رہبرِ شہید کی طویل قیادت، انقلابی فکر اور اسلامی نظام کے دفاع کی جدوجہد ان کے پیروکاروں کے نزدیک ایک ایسے ورثے کی حیثیت رکھتی ہے جو آنے والی نسلوں تک منتقل ہوگا۔
اسلامی انقلاب کے فکری حلقوں میں "صالح بعد از صالح" کا تصور اسی تسلسل کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ قیادت کا سفر افراد سے بڑھ کر ایک نظریے اور ذمہ داری کا تسلسل ہوتا ہے۔
اختتامیہ
رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو ان کے حامی ایک انقلابی رہنما، مذہبی مدبر اور مزاحمتی فکر کے علمبردار کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بنیادی پیغام اسلامی اقدار، قرآن کی تعلیمات، سیرتِ رسول اکرم ﷺ اور مکتبِ اہل بیتؑ سے وابستگی پر قائم تھا۔
امام خمینیؒ اور رہبرِ شہید دونوں کے پیروکاروں کے نزدیک ان کی جدوجہد کا مقصد ایک ایسے اسلامی معاشرے کا قیام تھا جو عدل، آزادی، خودمختاری اور الٰہی اصولوں پر استوار ہو۔
اسی لیے ان کی شہادت اور تشییعِ جنازہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک فکری پیغام بھی ہے کہ نظریات، اقدار اور اصول اپنی قیادت کرنے والی شخصیات کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ